اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر/ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کو پاک بھارت تعلقات اور خطے کے وسیع ترین مفادات کیلئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت مذاکرات کے بجائے تنازعہ کشمیر کو عسکری دبدبے کے بل پر حل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی بے انتہا جابرانہ پالیسی اور ظالمانہ حربوں نے کشمیریوں کو اب موت و حیات کے ڈر سے بے نیاز کیا ہے اور حالات اب یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ایک پیشہ ور فوج سڑکوں پر نہتے عوام کے ساتھ برسر جنگ ہے۔شوپیاں میں ایک وسیع و عریض علاقے کے شدید محاصرے اور عوام پر جبر و قہر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نصف ضلع شوپیان کا بیک وقت کریک ڈاون اور ڈران طیاروں کے ساتھ ساتھ جنگی ہیلی کاپٹروں کا استعمال شہریوں کے ساتھ چنگیزی سلوک عوام کو خوف و دہشت زدہ بنائے رکھنے کی نئی حکمت عملی ہے تاکہ حریت پسند عوام کے تحریکی عزم و حوصلے کو توڑا جاسکے۔ انسانیت سوز محاصرے کے دوران غیور عوام کے مزاحمتی جذبات کی سراہنا کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ کشمیری قوم نے اپنے شہدا کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کا عزم کررکھا ہے اور اس راہ میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ آغا صاحب نے وادی کے طول و عرض میں نوجوانوں کی گرفتاریوں کے لامتناعی سلسلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فورسز اپنے جابرانہ برتاو سے کشمیری نوجوانوں کے غم و غصے میں مذید اضافہ کررہے ہیں۔ خانپورہ بڈگام میں سرکار کی طرف سے تعمیر کئے گئے نرسنگ ٹرینگ سنٹر کو مطلوبہ مقاصد کے بجائے گودام کے طور پر استعمال کرنے کو ایک فلاحی مشن کی بدترین توہین سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ حکومت کا یہ وطیرہ انتہائی افسوسناک اور علاقہ کے عوام کے ساتھ بدترین دھوکہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں عوام کے خواہشات کے احترام کیلئے فوری اقدام کریں تاکہ یہ ٹرینگ سنٹر جس مقصد کیلئے قائم کیا گیا اس مقصد کی تکمیل ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲